ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی ممبر اسمبلی سریندر کاپھرمتنازع بیان ،کہا سپنا چودھری کی طرح سونیا بھی اسی پیشے سے تھیں

بی جے پی ممبر اسمبلی سریندر کاپھرمتنازع بیان ،کہا سپنا چودھری کی طرح سونیا بھی اسی پیشے سے تھیں

Mon, 25 Mar 2019 11:12:55    S.O. News Service

نئی دہلی، 25 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) انتخابی ہلچل کے بڑھتے ہی بیانات کی سیاست تیز ہو گئی ہے۔اتر پردیش کے بلیا کے بیریا سے بی جے پی ممبر اسمبلی سریندر سنگھ نے اتوار کو کانگریس صدر راہل گاندھی، سابق صدر سونیا گاندھی اور کانگریس میں شامل ہوئی سپنا چودھری پر انتہائی قابل اعتراض تبصرہ کیا۔ممبر اسمبلی سریندر سنگھ نے کہا کہ راہل جی نے رقاصہ سپناچودھری کو اپنا لیا ہے،اچھی بات ہے کہ وہ اپنے کل کی روایت کو آگے بڑھائیں،ان کی والدہ جی بھی اٹلی میں اسی پیشے سے تھیں۔اس طرح ان کے والد نے سونیاجی کو اپنا بنا لیا تھا، آپ بھی آج ہندوستان کی سیاست میں سپناکو اپنا بنا کر نئی سیاسی اننگز کا آغاز کریں، اس کے لئے آپ کومبارک۔

ایک گھنٹے کی ویڈیو میں سریندر سنگھ نے مزید کہا کہ ہندوستان کی عوام کبھی بھی ڈانسر کو ملک چلانے کی اجازت نہیں دے گی، لہذا ملک چلانے کا کام مودی جی جیسے بہادر اور ایماندار لیڈر کے ہاتھ میں ہوگا۔رقاصہ کے آنے سے ہندوستان کی سیاست میں کوئی اثر نہیں ہو گا،مجھے خوشی ہے کہ راہل جی ابھی لیڈروں سے اعتماد اٹھا کر رقاصہ پربھروسہ کرنا شروع کر رہے ہیں،اچھا تو اب یہ ہوگا کہ ساس اور بہو دونوں ایک ہی کلچر اور ایک ہی پیشے سے ہوں گی تو کانگریس کی کمان ایک ظہور، ایک شکل اور ایک ہی نقشے سے چلے گی۔

آپ کو بتا دیں کہ سریندر سنگھ اتر پردیش کے بلیا ضلع کی بیریا اسمبلی سیٹ سے ممبر اسمبلی ہیں، وہ مسلسل اپنے بیانات کی وجہ سے بحث میں رہتے ہیں،مسلسل ان کے تبصرے تنازعات کا سبب بنتے ہیں۔اس سے پہلے انہوں نے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کو لے کر متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔سریندر سنگھ نے کہا تھا کہ مایاوتی خود روز فیشیل کرواتی ہیں، وہ کیا ہمارے لیڈر کو شوقین کہیں گی۔سریندر سنگھ بولے کہ مایاوتی کی عمر ہو گئی ہے، پھر بھی وہ اپنے آپ کو جوان ثابت کرتی ہیں۔اس سے پہلے گزشتہ سال جب پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج آئے تھے، تب انہوں نے کہا تھا کہ دلتوں کو آسمان پر نہیں چڑھانا چاہئے۔اس کے علاوہ اناؤ ریپ کیس کو لے کر بھی سریندر سنگھ کے تبصرہ نے کافی سرخیاں بٹوری تھیں۔


Share: